انشورنس کیا ہے ؟ انشورنس کس لیے ہوتا ہے. انشورنس کی شرعی حیثیت | What is Insurance in Urdu

انشورنس کیا ہے. انشورنس کس لیے ہوتا ہے. انشورنس کی شرعی حیثیت | What is Insurance in Urdu

السلام علیکم محترم دوستوں آج ہم بات کریں گے کہ انشورنس کیا ہے. بیمہ کیا ہے. بیمہ کی تعریف. انشورنس کے کتنے اقسام ہے. انشورنس کس لیے ہوتا ہے. انشورنس کی شرعی حیثیت. انشورنس کا حکم.
انشورنس یعنی بیمہ یہ الفاظ آپ نے اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں ضرور سنا ہوگا. لیکن کیا ہوتا اور انشورنس کے کتنے اقسام ہوتے ہیں. کیسے کیا جاتا ہے یہ نہیں معلوم تو یہ آرٹیکل آپ کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے. اس میں ہم آپ کو انشورنس سے جوڑی تمام معلومات فراہم کریں گے.

انشورنس کیا ہے. انشورنس کس لیے ہوتا ہے. انشورنس کی شرعی حیثیت | What is Insurance in Urdu


{tocify} $title={Table of Contents}


سب سے پہلا سوال جو آپ کے دماغ میں ہوگا کہ انشورنس کیا ہے. بیمہ کیا ہے ؟


انشورنس کیا ہے | انشورنس کس لیے ہوتا ہے

انشورنس میں ہم کسی ایک انشورنس کمپنی سے اپنے لیے یا اپنی کسی اہم چیز کے لیے ایک بیمہ خریدتے ہیں جس میں ہمیں پہلے کچھ فکس رقم بتائے گئے وقت تک بھرنا ہوتا ہیں یا کئی بار ایک بار میں بھی پورے پیسے بھرنے ہوتے ہیں.

اور بعد میں جب ہمیں یا اس چیز کو کچھ نقصان ہوتا ہیں جس کا ہم نے انشورنس لے رکھا ہیں تو اس چیز کا نقصان کا خرچہ کمپنی اٹھاتی ہیں.

کتنی رقم دیا جائے گا نقصان بھرنے میں یہ اُس حساب سے طے ہوتا ہے جیسا معاہدے میں دیا ہو. یہ کسی انشورنس کمپنی کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ ہوتا ہیں.

اب جب ہم یہ سمجھ گئے ہے کہ انشورنس کیا ہے. تو بات آتی ہے کہ انشورنس کیوں ضروری ہے؟


انشورنس کرنے سے کیا کیا فائدہ ہوتا ہے

انشورنس زندگی میں آنے والی کسی بھی مسئلے کو فیس کرنے کے لیے ایک سیکورٹی ٹول جیسا ہوتا ہے. انشورنس مالی منصوبہ بندی کا سب سے بنیادی قدم ہیں. ہر انسان اپنی فیملی اور اپنے خود کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے انشورنس کرواتا ہیں.

لائف انشورنس کے فائدے

یہ پالیسی ایک تحفظ فراہم کرتا ہیں معاشی بحران سے بقولِ انشورنس کمپنیاں.
یہ پالیسی پلان بڑھاپے میں سہارا دینے کے لیے بچت بھی ہیں. پالیسی کرنا بچت کرنے کا بہترین پلان بھی ہیں.
آپ اپنی پالیسی کی گارنٹی دے کر کسی بھی بینک سے ادھار بھی لے سکتے ہیں.

جنرل انشورنس کے فائدے

آج کے ٹائم میں جب کسی بھی چیز کا کوئی بھروسہ نہیں بچا ہے ہر چیز کا انشورنس ہونا بہت ضروری ہیں. جنرل انشورنس آپ کو ایک مالیاتی سیکورٹی فراہم کرتا ہیں تاکہ آپ اپنی لائف کی پرابلمز کو آسانی سے حل کرسکے.
جنرل انشورنس ہونے سے کئی بار ایک دہنی سلامتی کی سیکورٹی بھی ملتی ہے. بحران کے صورت حال آنے پر ہم اُس بحران کو سکون کے ساتھ ہنڈیل کر سکتے ہیں.


انشورنس کتنے طرح کا ہوتا ہے؟ 

انشورنس دو طرح کا ہوتا ہیں 

1: لائف انشورنس یعنی زندگی کا انشورنس

2: جنرل انشورنس یعنی آسان انشورنس

لائف انشورنس
زندگی انشورنس کسی انسان کے لئے خریدا جاتا ہے جس کا مطلب ہوتا کہ اگر اُس انسان کی کسی حادثے میں موت واقع ہو جاتی ہے تو اُس کے گھر والوں کو بیمہ انشورنس کمپنی کے ذریعے کچھ رقم جس سے پریمیم کہا جاتا ہے، وہ دئ جاتی ہیں. اسے ٹیکس ادا کرنے میں بھی کسی حد تک رعایت دی جاتی ہے. بیمہ ایک طرح کی بچت بھی ہیں. 

زندگی بیمہ میں بیمہ خریدنے والے کسٹمر کو کچھ رقم ایک فکس ٹائم تک انشورنس کمپنی میں جمع کرنا پڑتا ہے، اور اُس سے کتنا پریمیم ملے گا یہ اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ اُس نے کتنے ٹائم تک اور کتنے قسطوں کا رقم بھرا ہیں.

لائف انشورنس کئی پالیسی کرنے والی کمپنی کرتی ہیں اور سب کا پریمیم پلان الگ ہوتا ہیں. آپ اپنے حساب سے اپنے لیے سہی پالیسی منتخب کر سکتے ہیں. اس وقت پاکستان میں لگ بھگ 15-20 انشورنس کمپنیاں دستیاب ہیں. کتنے کا لائف انشورنس لینا چاہیے یہ بھی ایک بڑا سوال آتا ہیں کسی بھی انشورنس خریدنے والے کسٹمر کے ذہن میں. ہم آپ کو ایک فارمولا بتائیں گے جس سے آپ آسانی سے اپنے رقم کا فیصلہ کر سکتے ہیں. 

ہر سال انکم * 8- (بچت) - (قرض) = زندگی کی انشورینس کی رقم

اس فارمولے سے جو رقم نکلے گا وہ آپ کی زندگی کی اصل بیمہ ہونا چاہئے. 

جنرل انشورنس یعنی آسان بیمہ:
یہ وہ انشورنس ہوتا ہے جو ہم اپنی کسی غیر جاندار چیز کے لیے لیتے ہیں جیسے کہ گھر انشورنس، موٹر سائیکل انشورنس، گاڑی انشورنس، دکان انشورنس، موبائل فون انشورنس، صحت انشورنس وغیرہ وغیرہ، اس میں عام طور پر پورا انشورنس کا رقم ایک بار میں ادا کرنا ہوتا ہیں جیسے کہ اگر آپ اپنی موٹر سائیکل کا انشورنس کروا رہے ہیں تو آپ کو کچھ ایک فکس رقم کا انشورنس خریدنا پڑتا ہیں اور پھر سالانہ اُسے تجدید کروانا ہوتا ہے. جنرل کئی چیزوں کا ہوتا ہیں جیسے:


موٹر. گاڑی انشورنس

موٹرسائیکل یا کار انشورنس بھی ایک تحریری معاہدہ ہوتا ہے کسٹمر اور انشورنس کمپنی کے بیچ میں جس میں یہ طے ہوتا ہے کہ آپ کے گاڑی کو کچھ بھی نقصان ہوا تو انشورنس کمپنی کتنے فیصد تک اُس کا نقصان کا ازالہ کرے گی.

یہ رقم ہر کمپنی کے انشورنس معاہدے میں پہلے ہی ذکر ہوتا ہیں. اور ساتھ ساتھ انشورنس کمپنی یہ بھی کور کرتی ہیں کہ اگر آپ کی موٹرسائیکل یا کار سے کسی فرد کو کچھ نقصان ہوا ہیں تو اُس کی بھی کچھ حد تک ازالہ انشورنس کمپنی کرتی ہے. اس کو تیسری پارٹی انشورنس کے انڈر کور کیا جاتا ہیں.

لگ بھگ ہر انشورنس کمپنی موٹر انشورنس آفر کرتی ہیں آپ خود اپنی ضرورتوں کے حساب سے اپنی انشورنس کمپنی کا انتخاب کر سکتے ہیں.

موبائل فون انشورنس

آج کل موبائل فون کسی کے لیے بھی اُس کی سب سے اہم چیزوں میں سے ایک ہوتا ہے، اور اب جب فون اتنا ہی اہم ہے بقولِ انشورنس کمپنیاں تو اُس کا انشورنس ہونا بھی اُتنا ہی ضروری ہیں
فون کا انشورنس اُسے خریدتے وقت ہی کیا جاتا ہے جس کے حساب سے فون کے ٹوٹنے، خراب ہونے یا چوری ہو جانے کی صورت میں بیمہ کمپنی اُس کی کچھ فیصد تک کے نقصان کا معاوضہ ادا کرتی ہیں. لیکن اس میں کچھ شرائط و ضوابط ہوتے ہیں مثلاً زیادہ تر کمپنی موبائل-فون کے پانی سے نقصان پہنچنے کی صورت میں انشورنس کا دعویٰ نہیں کرتی ہیں. 
مارکیٹ میں بہت سارے ایسی انشورنس کمپنیاں دستیاب ہے جو سمارٹ فون کا انشورنس کرتی ہے. انشورنس کی رقم آپ کے فون کی قیمت پر انحصار کرتا ہیں. 

گھر کا انشورنس:

اگر آپ اپنے گھر کا انشورنس کسی بھی انشورنس کمپنی سے کراتے ہیں جو آپ اپنے گھر کو ہونے والے نقصان کا معاوضہ پہلے سے کر لیتے ہیں. گھر انشورنس ہر طرح کی قدرتی آفت کی صورت میں دعویٰ کیا جا سکتا ہیں جیسے زلزلہ آنا، آگ لگنا، سیلاب آنا وغیرہ. ان سب صورت حال کے ساتھ ساتھ گھر میں چوری ہونا اور لڑائی فسادات میں ہونے والے نقصان کو بھی ہوم انشورنس میں کور کیا جاتا ہے. بہت سی انشورنس کمپنیاں گھر انشورنس کی سہولت فراہم کرتی ہیں آپ خود اپنی کمپنی کا انشورنس کا انتخاب کر سکتے ہیں. 


صحت کا ہیلتھ انشورنس

آج کل جس طرح سے بیماریاں بڑ رہی ہیں اُسی طرح سے اُن کے علاج میں ہونے والے اخراجات کی رقم بھی بڑ رہے ہیں.

اگر کسی کا صحت انشورنس ہوتا ہیں تو اُس کی بیماری کے علاج میں خرچ ہونے والا پیسہ انشورنس کمپنی دیتی ہے. کسی بھی بیماری کے علاج میں بیمہ کمپنی کتنے فیصد تک کور کرے گی یہ اُس کمپنی کے صحت انشورنس پلان پر انحصار کرتا ہیں.

ہیلتھ انشورنس کا دعویٰ کرنے کے لیے کم از کم مریض کو 24 گھنٹوں تک ہسپتال میں داخل ہونا ضروری ہیں مطلب اس کا مرض اتنا بڑا ہو، اگر مریض 24 گھنٹوں سے پہلے ہی ہسپتال سے ڈسچارج ہو جاتا ہیں تو اُس کنڈیشن میں آپ ہیلتھ انشورنس کا دعویٰ نہیں کرسکتے.

اور بھی بہت قسم کے جنرل انشورنس ہوتے ہیں جیسے کہ سفر کا انشورنس، فصل کا انشورنس، کاروباری ذمہ داری کا انشورنس، دکان انشورنس، ہوٹل انشورنس، وغیرہ.

آپ اپنی ضرورت کے حساب سے اپنی انشورنس کمپنی کا انتخاب کرکے انشورنس خرید سکتے ہیں.


انشورنس کیسے خریدا جاتا ہے:

اب ہم یہ تو پہلے ہی سے جان لیا کہ انشورنس کیا ہوتا ہے اور کتنے طرح کا ہوتا ہے تو اب بات آتی ہیں کہ انشورنس کیا کیسے جاتا ہیں یعنی پالیسی خریدنے کا طریقہ کیا ہوتا ہے. تو چلیں جانتے پالیسی کیسے خریدے.
انشورنس کروانے کے کئی طریقے ہوتے ہیں جیسے:
انشورنس کمپنی کے ایجنٹ سے کروانا. 
کمپنی میں خود جاکر انشورنس کروانا. 
کمپنی کے ویب سائٹ سے انشورنس لینا
آن لائن بروکر ویب سائٹ پر ریجسٹر کرکے اُن کے ذریعے انشورنس کروانا

ان سب طریقوں میں سے جو آپ کو آسان لگتا ہو اُس کا انتخاب کریں اور اُن سے ملکر باقی کا کام آپ خود سمجھ جائیں گے جو انکی پالیسی ہوگی وہ اُس کے مطابق آپ کو سمجھائیں گے.


انشورنس کا دعویٰ کیسے کیا جاتا ہے

انشورنس پالیسی لینے کے بعد سب سے اہم پارٹ ہوتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر اُس پالیسی کو درخواست دینا. کئی بار لوگوں کو یہ نہیں پتہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی پالیسی کے پیسے کیسے حاصل کرے اور اس وجہ سے اُن کے پیسے کئی دنوں تک اٹکے رہتے ہیں.
کئی بار غلط معلومات بھرنے کی وجہ سے انشورنس حاصل کرنے کا درخواست کینسل بھی ہو جاتا ہے اس لیے یہ اقدام سب سے زیادہ دھیان سے کرنا ہیں.

لائف انشورنس کا دعویٰ

لائف انشورنس 2 کیسز میں دعویٰ کیا جاتا ہے

1: اگر پالیسی کے مالک کی موت واقع ہو گئی ہو
2: پہلے کیس میں کچھ اہم ڈاکومنٹس کی ضرورت پڑتی ہے جیسے کہ موت کا سرٹیفکیٹ ایک فارم بھرنا ہوتا ہے جس کے ساتھ ڈیتھ سرٹیفکیٹ. نامزد سرٹیفکیٹ. اور پالیسی کے ڈاکومنٹس منسلک کرنے ہوتے ہیں.
اگر موت ایکسیڈنٹ میں ہوئ ہوتی ہیں تو ایف آئی آر کی کاپی لگانا بھی ضروری ہوتا ہیں.

فارم بھرنے اور سبھی اہم ڈاکومنٹس منسلک کرنے کے بعد یہ ڈاکومنٹس پالیسی آفس میں جمع کرنے ہوتے ہیں. کمپنی سبھی ڈاکومنٹس چیک کرکے پالیسی کا رقم امیدوار کو دے دیتی ہیں. عام طور پر ڈاکومنٹس چیک کرنے کی عمل میں تھوڑا سا وقت لگتا ہیں.

دوسرے کیس میں انشورنس کمپنی پالیسی بالغ ہو جانے کے بعد آپ کے رجسٹریڈ ایڈریس پر ایک خارج ہونے والی واؤچر بھیجتی ہیں جس پر پالیسی ہولڈر کے دستخط ہونا ضروری ہوتا ہیں. اس واؤچر کو بھر کرکے دستخط کرنے کے بعد واپس کمپنی افسران بھیجنا ہوتا ہے اور واؤو موصول ہونے کے بعد کمپنی پالیسی کے رقم کو جاری کر دیتی ہیں. 

جنرل انشورنس کا دعویٰ
جنرل انشورنس کا دعویٰ کرنے کے لئے بھی ایک فارم بھرنا ہوتا ہے جو انشورنس کمپنی فراہم کرتی ہیں. جس میں پالیسی نمبر اور باقی کی ضروری تفصیلات بھرنی ہوتی ہیں.
یہ فارم  بھرنے کے بعد کمپنی کو جمع کرنا ہوتا ہے. کمپنی اپنی سائیڈ سے ویریفائی کرواتی ہیں کہ آپ کی بھری ہوئی تفصیلات ٹھیک ہیں یا نہیں اور اگر وہ ٹھیک ہوتی ہے تو کمپنی آپ کے انشورنس کا رقم آپ کو دے دیتی ہیں. 

نقد لیس کا دعویٰ
کئی بار کئی پالیسی نقد لیس کا دعویٰ کرتی ہیں جیسے کہ موٹر سائیکل انشورنس یا ہیلتھ انشورنس. ایسے کیسز میں کمپنی کا کچھ جگہوں پر پہلے ہی سے معاہدہ ہوتا ہیں. مثال کے طور پر اگر آپ کا نقد لیس ہیلتھ انشورنس ہیں تو آپ کے پالیسی ڈاکومنٹ میں ذکر کیا گیا ہے اس کے مطابق ہسپتال میں جاکر آپ اپنا علاج کروا سکتے ہیں. جس کا بل آپ کو اُس حساب سے ملے گا جس حساب سے آپ کی پالیسی میں ذکر ہیں اور آپ کو آپ کا علاج شروع ہونے سے پہلے ہسپتال کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ آپ کا ہیلتھ انشورنس ہے.


انشورنس کی شرعی حیثیت

انشورنس سے متعلق تمام بنیادی معلومات میں نے اوپر بتا دیئے اوپر بیان کردہ تمام معلومات کمپنیوں سے حاصل کردہ ہیں، 
الحمد اللہ ہم مسلمان ہیں ہمیں اس کی شرعی حیثیت کو بھی ضرور دیکھنا ہی دیکھنا ہیں، 

 ‫فتویٰ جاری کردہ - جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی‎.
Insurance in Islam انشورنس کی شرعی حیثیت

والسلام 🙂

Techpk

Hello Visitors, I Owner Of This Site My Name Is Abdul Kareem And I Belong To Pishin District Of Balochistan Province of Pakistan facebook twitter blogger pinterest

Post a Comment

Previous Post Next Post