ٹیلی گرام اور واٹس ایپ کے درمیان موازنہ | WhatsApp vs Telegram comparison

ٹیلی گرام اور واٹس ایپ کے درمیان موازنہ | WhatsApp vs Telegram comparison

 
ٹیلی گرام اور واٹس ایپ کے درمیان موازنہ | WhatsApp vs Telegram comparison. Whatsapp vs telegram

 
السلام علیکم محترم دوستوں آج ہم بات کرنے والے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام کے بارے میں.

تحریر آخر تک پڑھیں اور جانئیے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام میں کیا فرق ہے
 

معروف سوشل اینڈ میسجنگ موبائل ایپلی کیشن واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی میں بڑی تبدیلی کے بعد دنیا بھر کے صارفین واٹس ایپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے متبادل پلیٹ فارمز کا رخ کر رہے ہے.
 

جس میں ٹیلی گرام سب سے آگے ہیں. گزشتہ دنوں’ٹیلی گرام‘ سمیت دیگر مسیجنگ اپیلی کیشنز کے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ايپس کا ڈيٹا اکھٹا کرنے والی ويب سائٹ سينسر ٹاور کے مطابق صرف دو دنوں ميں 'ٹیلی گرام' انسٹال کرنے والوں کی تعداد 6 لاکھ سے زائد ہوچکی ہے لاکھوں لوگوں نے ٹيلی گرام انسٹال کرلی ہے.
 

ٹیلی گرام نے واٹس ایپ کے ممکنہ زوال پر اسے ٹیوٹر پر ٹرول کرتے ہوئے دنیا بھر میں معروف میم شئر کی جس کو صارفین نے خوب سراہا. 
 

خیال رہے کہ واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی کے مطابق جب صارفین ان سے منسلک تھرڈ پارٹی کی خدمات یا فیس بک کمپنی کی دوسری پروڈکٹس پر انحصار کرتے ہے، تو تھرڈ پارٹی وہ معلومات حاصل کر سکتی ہے. جو آپ یا دوسرے لوگ ان کے ساتھ شیئر کرتے ہے.
 
واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ وہ نئی پالیسی کے مطابق موبائل کی معلومات بھی حاصل کر پائے گا جن میں بیٹری لیول، ایپ ورژن، موبائل نمبر، موبائل آپریٹر اور آئی پی ایڈریس، موبائل کب آن کیا کب بند کیا، دن میں کب اور کتنی دیر استعمال کیا، سمیت دوسری اہم معلومات شامل ہیں۔
 

چلیں اب دیکھتے ہے کہ ٹیلی گرام اور واٹس ایپ میں کیا فرق ہے. whatsapp vs telegram comparison in urdu
WhatsApp vs Telegram
  
 
{tocify} $title={Table of Contents}
 
 
ٹیلی گرام واٹس ایپ کے مانند ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی ایپلیکیشن ہے جس میں واٹس ایپ کی طرح ہی موبائل نمبر درج کرتے ہوئے اکاؤنٹ بنایا جاتا ہے. 
اس ایپلیکیشن کی خاص بات فیچرز اور سہولیات کا تنوع ہے کہ اس میں بھانت بھانت کے ڈھیروں فیچرز اور سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور مزید اپ ڈیٹس کی شکل میں نئی نئی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں. 
 
بلکہ اگر آپ ٹیلی گرام استعمال کر رہے ہوں تو اس بات کو محسوس کریں گے کہ واٹس ایپ اپنے اپ ڈیٹس میں جلدی سے کوئی نئی چیز نہیں دیتا، بلکہ جو سہولت ٹیلی گرام میں پہلے سے ہوتی ہے اسی کی نقل کرتے ہوئے واٹس ایپ اپنے اپ ڈیٹس پیش کرتا ہے .
 
 آئیے اِس مضمون میں جانتے ہیں کہ سماجی رابطوں کی مشہور مسجنگ ایپ واٹس ایپ اور ٹیلی گرام میں سے کون سی ایپ زیادہ بہتر ہے۔ 
 WhatsApp vs Telegram 

 

نمبر ایک: سوپر گروپ/عوامی گروپ 

 

واٹس ایپ میں ایک ہی طرح کا گروپ ہوتا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ 257 افراد آ سکتے ہیں، ٹیلی گرام میں تین طرح کے گروپس آپ بنا سکتے ہیں، نورمل گروپ، سوپر گروپ پرائیویٹ اور سوپر گروپ پبلک ۔ سوپر گروپ میں تا دم تحریر 2 لاکھ افراد شامل کیے جاسکتے ہیں ..
 

آپ سوچیں گے کہ اتنے زیادہ افراد کو مینیج کرنے کیلیے ایڈمن بھی بہت سارے چاہئیں، اس مسئلے کے حل کیلیے ٹیلی گرام میں بوٹ ـ روبوٹ کا مخفف ـ کا اپشن بھی ہیں، ان بوٹس میں سے کسی ایک بوٹ کو اگر گروپ کا چوکیدار بنا دیا جائے تو یہ بوٹ چوبیس گھنٹے گروپ کی نگرانی کرتا رہے گا، آپ چاہیں موبائل بند کرکے سو رہے ہوں یا سفر میں ہوں ۔۔۔۔۔ اس طرح کے ایک بوٹ: گروپ ہیلپ بوٹ کے استعمال کرنے کے تعلق سے ویڈیوز یہاں دیکھ سکتے ہیں.  
 

نمبر دو: اسٹیکرز/اموجیاں 

 

ہرچند کہ واٹس ایپ نے اسٹیکرز کی سہولت ٹیلی گرام کی سہولت کے برسوں بعد فراہم کردی ہے.  

جبکہ ٹیلی گرام پر اسٹیکرز کے استعمال کیلیے کسی اضافی ایپلیکیشن کی ضرورت نہیں پڑتی، نیز ٹیلی گرام پر اسٹیکرز کا استعمال واٹس ایپ کے مقابلے میں نہایت آسان اور تیز رفتار بھی ہے. 
    

نمبر تین: پیغام کی تصحیح /ایڈٹ 

 

ٹیلی گرام میں ایک سہولت یہ بھی ہے کہ پیغام ارسال کرنے کے بعد اگر پیغام میں آپ کوئی بھیانک یا خود کش غلطی دیکھیں تو واٹس ایپ کی طرح اگلا میسج تصحیح کے نام سے یا اسٹار * لگاکر بھیجنا ضروری نہیں، آپ اُسی پہلے میسج میں تصحیح کرسکتے ہے. تصحیح کرنے کی مدت پرسنل اور چینل میں 48 گھنٹوں تک ہے. جبکہ سوپر گروپ میں لائف ٹائم ہے. 
 

ٹیلی گرام میں یہ سہولت تقریبا ابتدائے آفرینش سے ہے. جبکہ واٹس ایپ میں تا حال اس سہولت کے تعلق سے سوکھا پڑا ہوا ہے  
 

نمبر چار: ایک نمبر پر کئی ٹیلی گرام 

 
واٹس ایپ میں ایک نمبر پر ایک ہی واٹس ایپ استعمال کرسکتے ہیں، ایک نمبر پر دو واٹس ایپ استعمال کرنا واٹس ایپ میں ممکن نہیں، جبکہ ٹیلی گرام میں ایک نمبر پر ایک سے زائد ٹیلی گرام استعمال کیے جاسکتے ہیں، ایک نمبر سے موبائل کمپیوٹر لیپ ٹاپ وغیرہ جہاں چاہیں ٹیلی گرام کو استعمال کر سکتے ہیں 
 

نمبر پانچ: چینل یا گروپ

 
واٹس ایپ میں ون وے ٹریفک چلانے کیلیے بند گروپ بنائے جاتے ہیں جن میں میسج ارسال کرنے کا اختیار صرف ایڈمن حضرات کو ہوتا ہے، گروپ ممبرز کو نہیں. پھر اِس طرح کے گروپ میں افراد زیادہ سے زیادہ 257 ہی آ سکتے ہیں،
 
 جبکہ ٹیلی گرام میں ون وے ٹریفک چلانے کیلیے چینل کی سہولت فراہم کی گئی ہے جس میں صرف ایڈمن حضرات ہی میسج ارسال کر سکتے ہیں، اور ٹیلی گرام کے اس چینل میں لا محدود ـ آئی ریپیٹ : لا محدود ـ افراد شامل کیے جاسکتے ہیں، حتی کہ دنیا کی ساری آبادی ٹیلی گرام کے صرف ایک چینل میں سما سکتی ہے. 
 

نمبر چھ: یوزر نیم 

 
ٹیلی گرام کی ایک اہم ترین سہولت: اسکا یوزر نیم ہے، مثلاً یوزر نیم t.me/username اس یوزر نیم کی مدد سے کوئی بھی ہمارے پرسنل پر رابطہ کرسکتا ہے، اس سہولت کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں پرسنل پر بلانے کیلیے موبائل نمبر دینا نہیں پڑتا، ایک تو  فیس بک وغیرہ جیسی عوامی جگہوں پر اپنا موبائل نمبر دینا غیر محتاط مانا جاتا ہے. 
 
دوسرے یہ کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنا موبائل نمبر اپنے دوستوں اور فیملی تک محدود رکھنا پسند کرتے ہیں، ان کیلیے یہ سہولت شاندار ہے کہ پرسنل گفتگو کیلیے یوزر نیم دے دیا گیا اور موبائل نمبر کو بچا لیا گیا. واٹس ایپ میں یہ سہولت دستیاب نہیں ہے.  
 

نمبر سات: بوٹ /روبوٹ 

 
ٹیلی گرام کی ایک سہولت بوٹ ہے، یہ بوٹ روبوٹ کا مخفف ہے، مطلب اس کا یہ ہے کہ اپنا کام خود سے کرنے کے بجائے آپ بوٹ کو حکم دے سکتے ہیں. 
 
یہ بوٹ آپ کو آپکا کام کرکے دے دیگا، مثال کے طور سے آپ کو یوٹیوب کی کوئی ویڈیو پسند آئی اور آپ اسے بشکل ویڈیو اپنے دوستوں میں شیئر کرنا چاہتے ہیں تو واٹس ایپ پر تا حال دو کام کرنے پڑتے ہیں،
 
 اولا ویڈیو کو اپنے موبائل میں ڈاؤنلوڈ کرنا، پھر اسے واٹس ایپ پر اپلوڈ کرنا، یعنی ڈبل خرچہ، مثلا یوٹیوب ویڈیو اگر 25 ایم بھی میں ہو تو واٹس ایپ پر اسے اپنے دوستوں میں شیئر کرنے میں آپ کے 50 ایم بی خرچ ہونگے، پچیس ڈاؤنلوڈ کرنے میں، اور پچیس واٹس ایپ پر اپلوڈ کرنے میں. ساتھ ساتھ وہ یہ بھی کہ یوٹیوب سے ویڈیو ڈاؤنلوڈ کرنے کیلیے آپکو اپنے موبائل میں الگ سے کوئی ایپلیکیشن ٹیوب میٹ وغیرہ رکھنی پڑ سکتی ہے.
 
 جبکہ ٹیلی گرام میں یہ  سارے کام مفت میں ہونگے، یوٹیوب ویڈیو ڈاؤنلوڈ کرنے کیلیے نہ الگ سے ایپلیکیشن اپنے موبائل میں رکھنے کی ضرورت اور نہ ہی ایم بیز کا خرچہ، ٹیلی گرام میں آپ کو بس ایک کام کرنا ہوگا یوٹیوب ویڈیو کا لنک کاپی کیجئیے اور ٹیلی گرام کے بوٹ میں اُس لنک کو سینڈ کر دیجیے، چند سیکنڈ میں وہ ویڈیو آپ کے سامنے ہوگی جسے آپ ڈاؤنلوڈ کیے بغیر بھی ٹیلی گرام میں کہیں بھی فارورڈ کر سکتے ہے. 
 
واٹس ایپ میں نہ صرف یہ کہ بوٹ والی اس سہولت کا دور دور تک پتہ نہیں، بلکہ واٹس ایپ میں فارورڈ کرنے کیلیے فائل کا ڈاؤنلوڈ کرنا  ضروری ہے، جبکہ ٹیلی گرام میں بغیر ڈاؤنلوڈ کیے ہوئے بھی فائل کو فارورڈ کیا جاسکتا ہے . واضح رہے کہ ٹیلی گرام میں اس طرح کے بوٹ مختلف چیزوں کیلیے دستیاب ہیں. یوٹیوب ویڈیو کیلیے بھی، فیس بک ویڈیو کیلیے بھی، ٹوئٹر ویڈیو کیلیے بھی اور وغیرہ وغیرہ.  
 

نمبر آٹھ: 2 جی بی تک کی فائل 

 
واٹس ایپ پر ویڈیو یا اوڈیو آپ ارسال کرنا چاہیں تو واٹس ایپ کے آفیشل ورژن میں صرف 16 ایم بی تک کی فائل ارسال کرنے کی اجازت ہوتی ہے، نون آفیشل ورژن میں اس حد کو بڑھا کر 100 ایم بی تک کیا جاسکتا ہے. جبکہ ٹیلی گرام اپنے صارفین کو 2 جی بی تک کی فائل ارسال کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے. 
 

نمبر نو: مقررہ تاریخ و وقت پر پیغام ارسال کرنا 

 
ٹیلی گرام مقررہ تاریخ و وقت پر پیغام ارسال کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، یعنی اگر آپ کو کسی خاص وقت اپنے گروپ /چینل میں یا کسی کے پرسنل پر کوئی میسج ارسال کرنا ہے، اور آپ کو لگتا ہے کہ اُس متعین وقت آپ یا تو مصروف ہونگے یا پڑھنے،سونے آرام کرنے کا وقت ہوگا تو ایسے میں اپنے میسج کو تاریخ اور وقت کے حساب سے سیٹ کردیں، مقررہ تاریخ و وقت پر وہ میسج آپ کے چینل، گروپ یا ساتھی کے پرسنل پر از خود چلا جائے گا. واٹس ایپ میں تا حال یہ سہولت دستیاب نہیں ہے. 

 

نمبر دس: خفیہ گفتگو 

 
ٹیلی گرام میں ایک سہولت یہ بھی ہے کہ کسی سے پرسنل گفتگو کرنا چاہیں تو اس کیلیے دو اوپشن ہیں. ایک نورمل گفتگو، نورمل گفتگو واٹس ایپ ہی کی طرح ہوتی ہے. 
 
دوسرا اوپشن ہے خفیہ گفتگو. اس خفیہ گفتگو میں اسکرین شاٹ نہیں لیا جاسکتا۔ اس میں آپ یہ بھی طے کر سکتے ہیں کہ گفتگو کے باہمی میسجز ایک متعینہ مدت کے بعد ڈیلیٹ کردیے جائیں. تیس سیکنڈ یا ایک منٹ جو بھی وقت آپ طے کریں گے، وہ میسج بس اتنی دیر ہی نظر آئیں گے. اس کے بعد آپ کے پاس سے بھی اور سامنے والے کے پاس سے بھی از خود وہ میسجز ڈیلیٹ ہوجائیں گے ۔ 

 
مذکورہ بالا یہ دس باتیں مشتے نمونہ بطور از خروارے کے طور پر ہیں. یہ دیگ کے چند چاول ہیں جس سے دیگ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان دس باتوں کو حتمی اور کلی نہ سمجھا جائے. اور بھی بیشمار خوبیاں ہے جس کو بیان کرنے کیلئے ایسے پانچ تحریریں بھی کم پڑ سکتی ہے.

تو اب لوگ جان چُکے ہوں گے کہ واٹس ایپ اور ٹیلی گرام میں کیا فرق ہے. difference between whatsapp and telegram 2021 

Techpk

Hello Visitors, I Owner Of This Site My Name Is Abdul Kareem And I Belong To Pishin District Of Balochistan Province of Pakistan facebook twitter blogger pinterest

Post a Comment

Previous Post Next Post